History Of Pakistan From 1857 To 1947 Notes In Urdu [new]
1930ء میں ڈاکٹر محمد اقبال نے خطبہ الہ آباد میں برصغیر کے مسلمانوں کے لیے ایک الگ ریاست کے قیام کا تصور پیش کیا۔ یہ وہ دور تھا جب مسلمانوں میں شعور بیدار ہو رہا تھا کہ ان کی ثقافت، تہذیب اور مذہب کی حفاظت کے لیے ایک الگ وطن ناگزیر ہے۔ 23 مارچ 1940ء کا دن برصغیر کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے، جب لاہور میں قراردادِ لاہور (Qarardad-e-Lahore) منظور ہوئی۔ اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ برصغیر کے مسلمانوں کے لیے مشرقی اور شمال مغربی علاقوں میں آزاد ریاستیں قائم کی جائیں۔ اس قرارداد کو بعد میں "قراردادِ پاکستان" کہا گیا، جو دراصل پاکستان کی داغ بیل تھی۔
1. جنگِ آزادی 1857 اور مسلمانوں کا زوال history of pakistan from 1857 to 1947 notes in urdu
پاکستان کی جدوجہدِ آزادی کی تاریخ (1857ء سے 1947ء) ایک طویل اور صبر آزما سفر ہے، جس کا خلاصہ درج ذیل اہم نکات میں کیا جا سکتا ہے: history of pakistan from 1857 to 1947 notes in urdu
— ان انتخابات میں مسلم لیگ نے مسلمانوں کی نشستوں پر کلین سویپ کر کے ثابت کر دیا کہ وہ مسلمانوں کی واحد نمائندہ جماعت ہے۔ 1947: تقسیمِ ہند اور قیامِ پاکستان history of pakistan from 1857 to 1947 notes in urdu
دوسری جنگ عظیم کے بعد برطانیہ کو ہندوستان چھوڑنے کا فیصلہ کرنا پڑا۔ 3 جون 1947ء کے منصوبے کے تحت برصغیر کی تقسیم کا فیصلہ ہوا۔ قائد اعظم محمد علی جناح کی عظیم قیادت اور مسلمانوں کے بے مثال جذبے کے نتیجے میں، 14 اگست 1947ء کو دنیا کے نقشے پر سب سے بڑی اسلامی ریاست "پاکستان" وجود میں آئی۔ یہ آزادی ملنے والی نہیں تھی بلکہ بڑی قربانیوں کے بعد حاصل ہوئی تھی، جہاں لاکھوں مسلمانوں نے اپنی جانیں قربان کیں۔
1935 کے ایکٹ کے تحت 1937 میں صوبائی انتخابات ہوئے۔